پتا کریں آ قاصد پُھٹ گیا دی کیہڑے رنگ اچ نبھدی پئ اے
اکھ نئ پئ رجدی روون توں دل کملے ضد کر لئ اے
اور میں قاصد رستم نال تیرے نئ کرنا کوڑ قطعی اے
کیوں جو اُس لا پرواہ نو قسم خدا دی تیری شکل وی بُھل بھل گئ اے
بند دکان کے تھڑے پر بیٹھے دو بوڑھے آپس میں باتیں کرتے ہوئے ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہے تھے کہ ایک متجسس راہگیر نے ان سے اتنا خوش ہونے کی وجہ ...
No comments:
Post a Comment