چچا چھکن کبھی کبھار کوئی کام اپنے ذمے لے لیتے ہیں،گھر بھر کو تنگی کاناچ نچادیتے ہیں ۔”آبے لونڈے ،جابے لونڈے ،یہ کیجو،وہ کیجو“گھربازار ایک ہو جاتا ہے۔دورکیوں جاؤ،پرسوں پر لے روز کا ذکر ہے ،دکان سے تصویر کا چوکھٹا لگ کر آیا۔اس وقت تو دیوان خانے میں رکھ دی گئی کل شام کہیں چچی کی نظر اس پر پڑی بولیں ،”چھٹن کے ابا تصویر کب سے رکھی ہوئی ہے ،خیر سے بچوں کا گھر ٹھہرا ،کہیں ٹوٹ پھوٹ گئی تو بیٹھے بٹھائے روپے دور وپے کا دھکا لگ جائے گا،کون ٹانگے گا اس کو؟
”ٹانگتا اور کون،میں خود ٹانگوں گا کون سی ایسی جوئے شیرلانی ہے۔
رہنے دو،میں ابھی سب کچھ خود ہی کر لیتا ہوں“